ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / آل انڈیاتعلیمی وملی فاؤنڈیشن کے زیر انتظام سیلاب متاثرین کے مابین امداد رسانی جاری

آل انڈیاتعلیمی وملی فاؤنڈیشن کے زیر انتظام سیلاب متاثرین کے مابین امداد رسانی جاری

Mon, 25 Sep 2017 21:12:28    S.O. News Service

کشن گنج،25؍ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) کشن گنج،ارریہ ،پورنیہ ،کٹیہار اور بہار کے علاقوں میں سیلاب کے ذریعہ اتنے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے کہ ڈیڑھ ماہ ہونے کے باوجود بھی بہت سے متاثرین تک ریلیف نہیں پہنچ پایا ہے اور وہ انتہائی تکلیف کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔علاقے کے ایم پی مولانا اسرارالحق قاسمی سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرکے متاثرین کے لئے سرکاری و غیر سرکاری امداد کاانتظام کروانے میں مصروف ہیں۔ مختلف رفاہی اداروں اور اہل خیر حضرات کے تعاون سے آل انڈیا تعلیمی وملی فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ان سیلاب زدگان کے مابین ریلیف وراحت رسانی کاکام کیا جارہا ہے۔چنانچہ آج یہاں کوچادھامن بلاک کے 24 سیلاب زدہ گاؤں کے متاثرین کے درمیان ریلیف تقسیم کیا گیا۔راحتی اشیاء تقسیم کرنے میں فاؤنڈیشن کے سکریٹری مولانا نوشیراحمد و دیگر ذمہ داران شریک رہے۔اس موقع پرمولانا نوشیراحمد نے کہاکہ سیمانچل کے علاقے میں سیلاب کوآئے ہوئے ایک عرصہ گزر چکاہے اور مختلف اداروں کے ذریعہ راحت رسانی کی جوکوششیں کی گئی ہیں وہ ناکافی ہیں ،بہت سے لوگ ابھی بھی ایسے ہیں کہ ان کے پاس رہنے کے لئے نہ مکان ہے اور نہ کھانے پینے کاکوئی سامان ہے،ضرورت ہے کہ ملک کی مختلف رفاہی تنظیمیں بہار کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں راحت رسانی کے لئے مزید اقدامات کریں تاکہ لوگوں کی پریشانیاں دور ہوسکیں۔انہوں نے بتایا کہ کوچادھامن بلاک کے موجاباڑی گاؤں میں سیلاب کی لپیٹ میں آکر چالیس سے زائد مکانات کے ساتھ مسجد بھی منہدم ہوگئی ہے،جس کی وجہ سے مقامی لوگوں کو نماز ادا کرنے میں کافی دشواریوں کا سامنا ہے اور انہوں نے فاؤنڈیشن سے مسجدکی تعمیر کے لئے اپیل کی ہے۔انہوں نے کہا کہ مختلف مرحلوں میں فاؤنڈیشن کی جانب سے ملک کے مختلف اہل خیر حضرات کے تعاون کے ذریعے تیس ہزارفیملی کے لئے ریلیف پیکٹس کا نظم کیا گیا ہے،سیلاب متاثرین کے درمیان کھانے پینے کی ضروری چیزیں جیسے پانچ کیلوچاول، دال، تیل، چوڑا،چینی،گڑ،مسالہ،نہانے اور کپڑا دھونے کا صابن وغیرہ کے علاوہ پہننے کے کپڑے ،مچھردانی اور بیماروں کو مفت دوائیں بھی مہیاکرائی گئی ہیں۔انہوں نے کہاکہ سیلاب میں ہزاروں لوگوں کے مکانات پوری طرح بہہ گئے ہیں یا منہدم ہوگئے ہیں اور انہیں سرچھپانے کے لئے بھی جگہ میسر نہیں ہے ، فاؤنڈیشن نے ایسے پریشان حال سیلاب زدگان خاص طورپر بیوہ خواتین کے لئے مکانات بنوانے کا منصوبہ تیار کیا ہے،ایک مکان کی تعمیر پرکم ازکم پچاس ہزار روپے کا صرفہ ہے۔فاؤنڈیشن نے اہل خیرحضرات سے ان مصیبت زدگان کے لئے مکانات کی تعمیر میں حصہ لینے کی اپیل کی ہے۔ پاٹ کوئی پنچایت کے کالوسونی گاؤں میں کل محمد فاروق نامی شخص کا انتقال ہوگیا،سیلاب میں ان کابھی مکان منہدم ہوگیا تھا اور وہ سخت بیماری میں مبتلا تھے،فاؤنڈیشن کی ریلیف ٹیم نے ان کے اہل خانہ سے ملاقات کرکے تعزیت کی اور فوری طورپر نقد رقم کے علاوہ کھانے پینے کی اشیاء کے ذریعہ بھی ان کی مدد کی گئی۔ریلیف ٹیم میں مولانا مسعود اختر قاسمی،مولاناسعود عالم ندوی ازہری ، مولاناعمرفاروق ،محتشم غازی اور قیصر عالم وغیرہ موجودتھے۔


Share: